انجینئر رشید نے سرجان برکاتی کے گھر جا کر اہل خانہ کی خبر گیری کی

کہا پولیس محبوس لیڈر کے خلاف کوئی بھی الزام ثابت کرے

443
Er Rashid. File Photo

انجینئر رشید نے سرجان برکاتی کے گھر جا کر اہل خانہ کی خبر گیری کی

کہا پولیس محبوس لیڈر کے خلاف کوئی بھی الزام ثابت کرے

کولگام3جنوری:اے آئی پی سربراہ انجینئر رشید نے آج ربن شوپیاں جا کر محبوس مزاحمتی لیڈر سرجان برکاتی کے اہل خانہ کی خبر گیری کی جو کہ گذشتہ دو برسوں سے پابند سلاسل ہیں ۔ اس موقعہ پر انجینئر رشید نے کہا کہ سرجان برکاتی کو سچ بولنے کی سزا دی جا رہی ہے بعد میں انجینئر رشید نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سرکار صرف بندوق اور کالے قوانین کے سہارے کشمیریوں کی جائز آواز کو دبانا چاہتی ہے اور سیاسی طور سے کشمیریوں کا مقابلہ کرنے کی نہ ہی نئی دلی اور نہ ہی مقامی انتظامیہ میں ہمت ہے ۔ انجینئر رشید نے کہا’’وہ سیکورٹی ایجنسیاں جو سرجان برکاتی پر بلا وجہ الزامات لگاتی ہیں انہیں اس سوال کا جواب دینا چاہئے کہ کیا کبھی سرجان برکاتی نے کسی پُر تشدد کاروائی میں حصہ لیا ۔ در اصل اُن کا واحد قصور یہ ہے کہ وہ کشمیر مسئلہ کے تواریخی پس منظر میں اس کے حل کی بات کرتے ہیں اور ایسا کہنا کسی بھی طرح سے غیر قانونی نہیں ۔ پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر سرکار کے پاس سرجان برکاتی کو جیل کے سوا دینے کیلئے کچھ بھی نہیں تو بھلا اُن جو شیلے نوجوانوں کو دینے کیلئے اُس کے پاس کیا ہے جنہوں نے ہندوستان کی ہٹ دھرمی سے تنگ آ کر بندوق کا راستہ اختیار کیا ہے ۔ سرجان برکاتی کی مسلسل نظر بندی کی وجہ سے جہاں اُن کی گھریلو زندگی متاثر ہوئی ہے وہاں اُن کے چھوٹے چھوٹے بچوں کی تعلیم بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور ’بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ ‘کا ڈھنڈورہ پیٹنے والوں سے پوچھا جا سکتا ہے کہ سرجان برکاتی اور ان جیسے درجنوں سیاسی لیڈروں کے بچوں کی تعلیم کے ساتھ کون کھلواڑ کرتا ہے ‘‘۔ انجینئر رشید نے اس موقعہ پر مٹہ بوگ کولگام کے پرویز احمد پالہ ولد محمد ایوب پالہ کو علاج و معالجہ کی سہولیت دینے سے انتظامیہ کے مسلسل انکار کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جہاں پرویز مہلک بیماری میں مبتلا ہے وہاں دُکھ کی بات یہ ہے کہ امن کے نام نہاد دعویداروں نے انہیں اسپتال منتقل کرنے سے مسلسل انکار کی ہے جس سے اُن کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ انجینئر رشید نے انتظامیہ کو مشورہ دیا کہ وہ انتقام گیری کی پالیسی کو ترک کرکے زمینی حقائق کو سمجھنے کی کوشش کرے اور یہ سمجھے کہ سرجان برکاتی ، پرویز پالہ اور اُن جیسے درجنوں لوگ جو عقوبت خانوں میں محبوس ہیں کوئی پیشہ ورانہ مجرم نہیں بلکہ سیاسی لوگ ہیں اور کشمیر مسئلہ کے حل کی بات کرتے ہیں۔