سوپور پولس فوج کی زیادتیوں پر پردہ ڈال رہی ہے:انجینئر رشید
فوج پرائیویٹ گاڑیوں کو یرغمال بنانا بند کرے یا پھر احتجاجی مظاہروں کا سامنا کرنے کو تیار ہوجائے
سرینگر//02/جنوری/: عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید نے سوپور پولس پر فوج کو عام لوگوں پر تشدد کرنے سے روکنے میں ناکام ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ سیلو میں قائم فوجی کیمپ کی جانب سے پرائیویٹ گاڑیوں کو یرغمال بنانا ایک معمول بن گیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ سوپور پولس فوج کی زیادتیوں کی جانب آنکھ بند کئے ہوئے ہے جو کہ اپنے آپ میں ایک ظلم ہے۔آج یہاں سے جاری کردہ ایک بیان میں انجینئر رشید نے کہا کہ گذشتہ کئی مہینوں سے سیلو سوپور میں قائم فوجی کیمپ کے جوان لوگوں سے زبردستی انکی گاڑیاں چھین لیتے ہیں اور مالکان و مسافروں کو کئی کئی گھنٹوں تک یرغمال بنائے رکھ کر انکی گاڑیوں کا استعمال کرتے ہیں جو کہ نا قابل قبول اور قابل مذمت ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا کرکے فوج معصوم لوگوں کی زندگی سے کھلواڑ کرتی ہے یہاں تک کہ اس کیمپ کے سامنے سے گذرنے سے لوگ گھبراتے اور کتراتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تازہ واقعہ میں کل ہی چاڈورہ،پلوامہ،بانڈی پورہ اور ہندوارہ کی چار گاڑیوں کو یرغمال بناکر انہیں کیمپ کے اندر لیا گیا اور ان گاڑیوں کے مسافروں کی تذلیل کرنے کے علاوہ انکے موبائل فون چھین لئے گئے اور پھر رات کے ساڑھے گیارہ بجے انہیں فقط تب ہی رہا کردیا گیا کہ جب یہ معاملہ اعلیٰ حکام کی نوٹس میں لایا گیا۔انجینئر رشید نے کہا کہ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ جب یہ معاملہ ایس پی سوپور کی نوٹس میں لایا تو انہوں نے نہ صرف اسے سرسری لیا بلکہ انہوں نے کئی بار گمراہ کن جواب دیا۔انجینئر رشید نے فوج کے اعلیٰ حکام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ واقعہ کشمیر میں اپنی شبیہ کے حوالے سے فکر مند ہیں تو پھر انہیں جوابدہی کے کسی خوف سے عاری ایسے افسروں اور جوانوں کو قرار واقعی سزا دینی چاہیئے کہ جو لوگوں پر زیادتیاں کرکے انکی زندگی کو جہنم بنائے ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر شکایت کو پروپیگنڈۃ بتاکر فوج یا پولس اپنی غلطیوں کو جواز نہیں بخش سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وردی پوش فورسز کو یہ بات سمجھ لینی چاہیئے کہ لوگوں پر زیادتیاں کئے جانے سے انکی شبیہ انتہائی خراب ہوتی ہے اور انہیں بدنامی کے سوا کچھ بھی حاصؒ نہیں ہوسکتا ہے۔عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ نے مزید کہا کہ اگر سیلو کے فوجی کیمپ کی زیادتیاں فوری طور بند نہیں ہوئیں تو لوگ سڑکوں پر آںے کو مجبور ہوجائیں گے جسکی ساری ذمہ داری پولس اور سیول انتظامیہ پر عائد ہوگی۔















































